14 جولائی 2026 - 12:56
ٹرمپ کا دستخط غیرمعتبر ہے/ مفاہمت نامہ معاہدے پر منتج ہونے سے پہلے ہی ختم ہؤا

امریکہ کو دوبارہ بڑا بنانے کا نعرے لگانے والے ٹرمپ نے امریکہ کو مزید 'چھوٹا' اور 'غیر معتبر' بنایا۔ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرکے ایران کے ساتھ اپنے دستخط کردہ مفاہمت نامے کے تمام نکات کو عملی طور پر پامال کر دیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ ٹرمپ کے وعدوں اور امریکی صدر کے دستخطوں پر اعتماد کرنا، تزویراتی خطا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بحال کر دی گئی ہے اور اب سے کسی بھی جہاز کو ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امریکی بحریہ کی قیادت میں مشترکہ بحری معلوماتی مرکز کے اعلان کے مطابق، یہ ناکہ بندی ایران کے تمام ساحلی خطوط بشمول تیل ٹرمینلز کا احاطہ کرتی ہے۔

اس اقدام کے ساتھ، امریکہ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی پانچویں اور اہم ترین خلاف ورزی کا ارتکاب کیا؛ کیونکہ معاہدے کے اہم محوروں میں سے ایک بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور جہازوں کی آمدورفت کے روٹس کھولنا تھا۔ یہ خلاف ورزی ان چار خلاف ورزیوں کے بعد سامنے آئی ہے جو اس سے قبل واشنگٹن کی طرف سے ریکارڈ کی جا چکی تھیں:

1۔ لبنان:

مفاہمت پر دستخط کے فوراً بعد، ـ لبنان کی ایران امریکی مفاہمت میں شمولیت کے باوجود ـ صہیونی ریاست نے امریکہ کی حمایت سے لبنان پر وسیع پیمانے پر حملے کئے اور اس ملک کی کٹھ پتلی حکومت نے امریکہ کے کہنے پر اسرائیل کے ساتھ علیحدہ مذاکراتی راستے کا آغاز کیا۔ اور امریکہ اور صہیونی ریاست نے اس شق کی منظم انداز سے خلاف ورزی کی جو اب تک جاری ہے۔

2۔ آبنائے ہرمز:

امریکہ نے عمان کے ذریعے جنوبی کوریڈور فعال کرکے ایران کے علاقائی انتظامات کو بائی پاس اور ایرانی کنٹرول کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

3۔ منجمد اثاثے:

واشنگٹن نے جھوٹے وعدوں کے ساتھ وقت ضائع کیا اور پھر اعلان کیا کہ وہ ایران کے منجمد کردہ اثاثوں ميں سے ایک سنٹ بھی آزاد نہیں کرے گا۔

4۔ تیل فروخت کرنے کے اجازت نامے کی منسوخی:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی تیل برآمدات کے اجازت نامے کو منسوخ کرکے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے امتداد میں ایک اور بڑا قدم اٹھایا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کی فوجی کارروائیاں اور اس ملک کے یکطرفہ فیصلے مفاہمت نامے کی اہم شقوں کو باطل کر چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بحری ناکہ بندی دیگر خلاف ورزیوں کے ساتھ مل کر عملی طور پر یہ ثابت کرتی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت ایک دھوکے سے زیادہ نہیں کچھ نہیں تھی، اور ملک کے ذمہ داران کو داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنی معاشی اور سیکیورٹی منصوبہ بندی کو متنوع آپشنز اور قومی لچک کی بنیاد پر استوار کرنا چاہئے؛ کیونکہ ایرانی عوام کو یہ حقیقت عرصے سے معلوم ہو چکی ہے کہ امریکی وعدے کبھی قابل اعتماد نہیں رہے اور نہ ہی حال اور مستقبل میں ان پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha